Bol TV Live ARY group of companies Samaa News , Express News , Express News , Channel 5 News,Pakistani News , Dawn News , City42 News , Hum Tv, Aaj News , PTV Pakistan ,Royal News Tv , Dunya News Tv , Pakistani Tv Channels , Ary News tv , Pakistan tv com , list Of Pakistani Tv Channels , live Pakistani Tv , Geo Super Live , Geo Super Geo Tv , Geo Super Tv , Geo News Tv , PTV Drama , Best Punjabi Stage Show , Pakistan Tv Serial , Pakistani Tv com , Hum Tv Play Star Plus Live Tv
Pages
- Home
- SAMAA NEWS
- Geo New جیو نیوز
- بول ٹی وی Bol TV
- Ary News TV
- Sindh News
- Khyber News
- Dawn News
- Waqat News
- Capital TV Live
- Dunya News
- Express News
- QTV Live
- Health TV Online
- Zaiqa TV
- ATV Live
- Royal News TV
- Such TV Live
- Metro One Tv Live
- Royal News TV
- Channel-5 Live Tv
- Aaj TV Live
- News One Live
- Geo tezz TV
- Hum TV ہم ٹی وی
- BOL TV LIVE
یو یارک ٹآیْمز کی سٹوریاں اور صداقت!
ReplyDeleteصدام حسین نے تیل کے عوض سونا مانگ کر امریکی معیشت کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی تو نیو یارک ٹآیْمز نے عراق کے خلاف جوہری ہتھیار بنانے کی ۱ سٹوری لکھ دی۔ جس پر کسی نے بھی نیو یارک ٹآیْمزسے وضاحت مانگنے کی بجاےْ عراق کو ملزم کی بجاےْ مجرم سمجھنا شروع کردیا۔ امریکہ نے عراق پر چڑھائ کر دی۔ عراق کو تباہ کر کے جب کوئ ثبوت نا ملا تو دنیا کو احساس ہوا کہ نیو یارک ٹآیْمز کی ۱ جھوٹی سٹوری کے پیچھے عراق کو برباد کر دیا گیا پے۔ نیو یارک ٹآیْمزنے اس سٹوری پہ محض ۱ پیراگراف لکھ کے معافی مانگ لی اور دنیا نے لاکھوں لوگوں کے قتل کا باعث بننے والے نیو یارک ٹآیْمزکو معاف کر دیا۔
BCCI بینک کے تیزی سے بڑھتے ہوے زرے مبادلہ کو دیکھ کر امریکی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڈ گئ۔ اپنے کمپیٹیٹر کو راستے سے یٹانے کا ٹاسک ۱ بار پھر نیو یارک ٹآیْمز کو دیا گیا۔ BCCI کے ۱ ملازم کو چند پیسے دے کے منگھڑت بیان لیا گیا اور نیو یارک ٹآیْمز نے ۱ بار پھر جھوٹی سٹوری شایعُ کر دی۔ اس بار بھی کسی نے نیو یارک ٹآیْمزکو اپنے الزامات ثابت کرنے کا نہیں کہا۔ سب نے مل کر تفتیش کے نام پر معاشی پابندیاں اور اس گروپ میں بینکنگ شعبہ کی ساکھ کو ایسا متاثر کیا کہ دوبارہ خطے میں کوئ بھی اس شعبہ میں امریکی منڈیوں کہ مدِمقابل نہ کھڑا ہو سکے۔ بعد میں یہ سٹوری بھی جھوٹی ثابت ہو گئ اور نیو یارک ٹآیْمز نے معافی بھی مانگ لی مگر اس جھوٹے سکینڈل کے زخم سے ابھی تک اس خطے کے بینک عالمی منڈیوں کے سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کر کے پہلے جیسیے حالات پیدہ نہیں کر سکے۔
پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں ۱ کمپنی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سر اٹھانا شروع کیا۔ ۴ سال میں اس کمپنی نے دنیا بھر کی منڈیوں میں اپنا لوہا منوایا اوربےتحاشہ زرِمبادلہ کماتے ہوے دنیا بھرکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں نہ صرف اپنا نام منوایا بلکہ کمپیٹیٹرز کے لیے خطرہ کی گھنٹی بجا دی۔ ساتھ ہی ساتھ اس کمپنی نے اپنا میڈیا گروپ بھی کھول لیا جس کا مقصد ملک میں موجود اندرونی غداروں کو بینقاب کرنا اور ملک کا واحد پرو نیشنل چینل بنانا بھی تھا۔ اس ادارے نے خطے کے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار بھی مہیا کیا ہوا تھا۔ ہمیشہ کی طرح یہ سر اٹھاتی کمپنی وقت کے خداوْں کو ناگوار گزر رہی تھی اور شک تھا کہ کہیں کویُ مدِمقابل نہ کھڑا ہو جاےُ۔ اس کمپنی کے خلاف ۱ مقدمہ کیا گیا جس میں کمپنی نے اپنی سچایُ ثابت کر دی اور سب کام معمول کے مطابق چلتے رہے۔ پھر اس کمپنی کا پتہ کاٹنے کی زمہ داری نیو یارک ٹآیْمز کو دی گیُ۔ پرانے مقدمے کو بنیاد بنا کر نیو یارک ٹآیْمز نے ۱ سٹوری لکھ دی۔ اس بار پھر کسی نے نیو یارک ٹآیْمز کو اپنی رپورٹ ثابت کرنے کا نہیں کہا بلکہ مقمامی میڈیا کے ذریعہ (جو پیلے ہی اس کمپنی کو اپنا کمپیٹیٹر سمجھ کے بوکھلاہٹ کا شکار ہے) اس کمپنی کے خلاف محاظ کھڑا کر دیا۔ کمپنی کی ساکھ تو تفتیش مکلمل ہونے سے پہلے ہی اتنی متاثر ہو چکی ہے کہ اب اگر یہ بے گناہ ثابت ہو بھی جاےُ تو پھر بھی اس شعبے میں ساکھ بحال کرتے کرتے اتنا وقت لگ جاےُ گا کہ مقابلے کی تمام کمپنیز کوسوں دور ہو جایِں گی۔
نیو یارک ٹآیْمز تو اس بر بھی معافی مانگ لے گی مکر اس سٹوری سے متاثر ہونے والا ملک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سالوں پیچھے رہ جاےَ گا۔ اس کمپنی کی ساکھ ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ پورے خطہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں اس ملک کی ہر کمپنی سے اعتبار اٹھ جاے گا۔ جو ملک اس وقت سب سے زیادہ زرمبادلہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ سے کما رہا ہے وہ ملک ۱ جھوٹے پروپیگنڈہ کی نظر ہو کے اس منڈی سے ہی باہر ہو جاےُ گا۔
عرض صرف اتنی ہے کہ بہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ الزام کون لگا رہا ہے اور اس کا اپنا کردار کیسا ہے۔ پھر اگر مان بھی لیا جاےُ کہ جو بندہ ہمیشہ سے ہماری معیشت کہ مخالف لکھتا آیا ہے وہ اس بار سچا ہے تو پھر بھی ملزم کو فورآ مجرم سمجھ کر اپنے ہی ملک کی اتنی بڑی کمپنی کے سڑرکچر اور وطن کی ساکھ کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کمپنی جھوٹی بھی ہوگی اور ٹیکس چور بھی پر میاں دوسروں کے لگاےُ الزام پر اپنے پاوُں پر کلحاڑی مارنے سے پہلے اپنوں کا موُقف تو پوچھ لو۔ بحیثیت قوم ہمیں میڈیا ٹرایُل کی عادت کوترک کر کہ اصلیت کو دونوں اطراف کا موقف جان کر انصاف کے پلیٹ فارم پر فیصلہ کرنے والے اداروں پہ یقین رکھنا چاہیے۔
آخر کب تک کسی کے بھی ہمارے گھر میں چنگاری پھینکنے سے بنا سوچے سمجھے ہم خد ہی ھوا دے کے سارا آنگن جلاتے رہیں گے۔
تحقیقات مکمل ہو لینے دیں اگر اس بار نیو یارک ٹآیْمزسچا ہوا تو پھر فیصلہ کر لیں گے کہ اسے بنیاد بنا ک سزا کمپنی کو دینی ہے یا میڈیا کے ذریعے قوم کی ساکھ کو؟
شعیب شیخ اگر غلط ہوتا تو وہ بهی میر شکیل الرحمن کی طرح آزاد گهوم رہا ہوتا
ReplyDeleteاسکی گرفتاری ہی اسکی سچائی کا ثبوت ہے
اور پاکستانی میڈیا کے ساتهہ ساتهہ انڈین میڈیا بهی هاتهہ دهو کے شعیب شیخ کے پیچهے کیوں پڑا ہے؟
میر شکیل الرحمن کے پیچهے تو کبهی نہیں پڑا
حامد میر ، نجم سیٹهی اور عاصمہ جہانگیر کے خلاف تو کبهی نقطہ بهی نہیں بولا گیا
شعیب شیخ کے خلاف ان سب کا ہونا ہی اسکی سچائی ہے
شعیب شیخ پاکستانی قوم کا ہیرو ہے
مجھے نہیں پتا غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہ۱
ReplyDeleteاگر میں غلط نظریے سے بھی دیکھوں تو شعیب شیخ کے بارے میں مثبت سوچ ہی رکھوں گا کیونکہ شعیب شیخ وہ شخص ہے جو باہر کا پیسہ لوٹ کر یا کما کر پاکستان لاتا ہے اور وہ لوگ جو اس کے خلاف سازش کررہے ہیں وہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر سوئس بینکوں میں جمع کرتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو تباہ کرتے ہیں، ہم سب کو چاہئے کہ شعیب شیخ کا ساتھ دیں اور اس مشکل وقت میں حکومت وقف اور وہ نام نہاد میڈیا جس کے بارے میں ہماری خود کی بھی رائے یہی ہے کہ یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہے کہ خلاف بولے، اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے
M. Asghar Niazi